45117- لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تأذن في بيت زوجها إلا بإذنه، ولا تخرج وهو كاره، ولا تطيع فيه أحدا، ولا تخشن بصدره ولا تعتزل فراشه، ولا تضربه، وإن كان هو أظلم منها فلتأته حتى ترضيه فإن كان هو رضي عنها وقبل منها فبها ونعمت وقبل الله عذرها وأفلج حجتها ولا إثم عليها، وإن هو أبى يرضى عنها فقد أبلغت عند الله عذرها. "طب، ك، ق - عن معاذ".
45117 جو عورت اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے حلال نہیں کہ وہ خاوند کی اجازت کے بغیر کسی کو گھر میں آنے کی اجازت دے، خاوند جب عورت کے گھر سے باہر نکلنے کو ناپسند کرتا ہو وہ گھر سے باہر نہ نکلے خاوند کے علاوہ کسی اور کی فرمان برداری نہ کرے خاوند کے متعلق اپنا سینہ مکدرنہ رکھے خاوند کے بستر سے الگ نہ ہو خاوند کو مارے بھی نہیں گو کہ خاوند کتنا ہی بڑا ظالم ہو عورت اسے راضی کرنے کی کوشش کرے اگر خاوند راضی ہوجائے بہت اچھا اور اللہ تعالیٰ بھی اس عورت کا عذر قبول کرلیتا ہے اور اس کی محبت کو تمام کردیتا ہے اور اس پر گناہ بھی نہیں ہوتا ۔ خاوند اگر راضی نہ ہو گویا عورت نے اپنا عذر اللہ تعالیٰ کے ہاں پہنچا دیا۔۔ رواہ الطبرانی والحاکم والبیہقی عن معاذ