(45157 -) انصرفي أيتها المرأة وأعلمي من وراءك من النساء أن حسن تبعل إحداكن لزوجها وطلبها مرضاته واتباعها موافقته يعدل ذلك كله (كر - عن أسماء بنت يزيد الانصارية أنها قالت : يا رسول الله ! أنا وافدة النساء إليك أن الرجال فضلوا علينا بالجمع والجماعات وعيادة المرضى وشهود الجنائز والحج والعمرة والرباط ، قال - فذكره).
45157 اے عورت ! واپس لوٹ جا اور جان لے کہ تیرے پیچھے بہت ساری عورتیں ہیں اگر تم اپنے خاوند کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ اور اس کی رضامندی چاہو اس کی اتباع کرو اور اس کی موافقت کرو یہ ساری چیزیں ان امور کے برابر ہیں۔۔ رواہ ابن عساکر عن اسماء بنت یزید الانصاریۃ کہ انھوں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! میں عورتوں کی وکیل بن کر آئی ہوں کہ مرد حضرات ہم عورتوں پر فضیلت لے گئے چونکہ وہ نماز جمعہ پڑھتے ہیں، جماعت کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں، مریضوں کی عیادت کرتے ہیں، نماز جنازہ میں شریک ہوتے ہیں حج وعمرہ کرتے ہیں اور سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ حدیث ارشاد فرمائی۔