hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 4537

.

كنز العمال

4537
Kanz al-Ummal
4537- عن فضالة بن أبي أمية عن أبيه "أن عمر بن الخطاب كاتبه فاستقرض له مأتين من حفصة إلى عطائه، فأعانه بها، فذكر ذلك لعكرمة فقال: هو قول الله تعالى {وَآتُوهُمْ مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي آتَاكُمْ} "."ق".
4537: ۔۔ فضالہ بن ابی امیہ اپنے والد ابی امیہ سے روایت کرتے ہیں کہ (وہ حضرت عمر (رض) کے غلام تھے) حضرت عمر (رض) نے ان سے شکایت کی۔ پھر ان کے لیے (اپنی بیٹی) حفصہ (رض) سے دو سو درہم قرض لیا کہ وہ غلام اپنے عطیہ کے وقت ادا کردے گا۔ پھر حضرت عمر (رض) نے ان دراہم کے ساتھ اس کی مدد کی (اور یوں وہ آزاد ہوگیا) فضالہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ بات حضرت عکرمہ (رح) کو ذکر کی انھوں نے فرمایا : حضرت عمر (رض) نے معاملہ اس فرمان باری کی تعمیل میں کیا :
واتوھم من مال اللہ الذی آتاکم۔ النور : 32
اور خدا نے جو مال تم کو بخشا ہے اس میں سے ان کو بھی دو ۔ السنن للبیہقی۔
فائدہ : ۔۔ اسلام میں کتابت کے معنی یہ ہے کہ کوئی آقا اپنے غلام کو ایک متعین رقم لانے پر مامور کردے اور اس کے عوض میں اس کو آزاد کرنے کا وعدہ کرلے۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے اپنے غلام سے دو سو درہم پر مکاتبت کی۔ لیکن دو سو درہم اس کے لیے حاصل کرنا طویل عرصہ مانگتے تھے۔ اس وجہ سے حضرت عمر (رض) کو دیے اور غلام خود حضرت حفصہ (رض) کو ادا کرنے کا ذمہ دار بنا اور اپنی زندگی آزاد کرالی ۔