4544- "علي رضي الله عنه" عن أبي مجلز2 قال رجل لعلي بن أبي طالب أنا أنسب الناس، قال: "إنك لا تنسب الناس، قال: بلى فقال له علي أرأيت قوله تعالى: {وَعَاداً وَثَمُودَا وَأَصْحَابَ الرَّسِّ وَقُرُوناً بَيْنَ ذَلِكَ كَثِيراً} أرأيت قوله تعالى: {أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَبَأُ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوحٍ وَعَادٍ وَثَمُودَ وَالَّذِينَ مِنْ بَعْدِهِمْ لا يَعْلَمُهُمْ إِلَّا اللَّهُ} فسكت"."ابن الضريس في فضائل القرآن".
4543: ۔۔ (مسند علی (رض)) ابی مجلز سے مروی ہے علی بن ابی طالب (رض) کو ایک شخص نے کہا میں لوگوں کا نسب بیان کرتا ہوں۔ آپ (رض) نے فرمایا تم نسب نہ بیان کرو۔ اس نے کہا اچھا ٹھیک ہے۔ پھر آپ (رض) نے فرمایا : کیا تم نے فرمان الہی نہی پڑھا :
و عادا وثمود و اصحاب الراس وقرونا بین ذلک کثیرا۔ الفرقان۔ 38
اور عاد اور ثمود اور کنوئیں والوں اور ان کے درمیان بہت سی جماعتوں کو ہلاک کردیا۔ یعنی ان کے درمیان بھی بہت سی جماعتیں ہیں جو ہم کو معلوم نہیں۔
اسی طرح فرمان الہی ہے :
الم یاتکم نبا الذین من قبلکم قوم نوح و عاد وثمود والذین من بعدہم لا یعلمہم الا اللہ۔
کیا تمہارے پاس ان لوگوں کی خبر نہیں آئی جو تم سے پہلے تھے قوم نوح، عاد ثمود اور لوگ جو ان کے بعد تھے جن کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (ابن الضریس فی فضائل القرآن)
فائدہ : ۔۔ یعنی جب اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا تو تم دعوی کے ساتھ کئی کئی پشتوں تک کیسے نسب بیان کرسکتے ہو۔