4561- "من مسند عمر رضي الله عنه" عن عمر بن الخطاب أنه كان إذا نزع1 بهذه الآية: {فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ} قال: "ألا إن سابقنا سابق، ومقتصدنا ناج، وظالمنا مغفور له". "ص ش وابن المنذر ق في البعث".
4561: ۔۔ (مسند عمر (رض)) حضرت عمر بن خطاب (رض) کے متعلق منقول ہے کہ آپ (رض) اس آیت :
فمنہم ظالم لنفسہ و منہم مقتصد و منہم سابق بالخیرات باذن اللہ۔ فاطر : 32
کچھ تو ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں اور کچھ میانہ رو ہیں اور کچھ خدا کے حکم سے نیکیوں میں آگے نکل جانے والے ہیں۔ کے مثل اپنی طرف ارشاد فرماتے تھے۔
ہمارے سابق تو سابق ہمیں ہی (جو نیکیوں میں آگے نکل جانے والے ہیں اور ہمارے میانہ رو نجات یافتہ ہیں اور ہمارے ظالم لوگ بھی اللہ کی بخشش حاصل کرلیں گے۔ السنن لسعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، ابن المنذر، البیہقی فی البعث)
فائدہ : ۔۔ حضرت عمر (رض) بسا اوقات کوئی بات ارشاد فرماتے تھے تو بالکل اسی کے موافق اللہ کا کلام نازل ہوجاتا تھا۔ اس وجہ سے حضرت عمر (رض) کو ملہم من اللہ بھی کہا گیا ہے یعنی اللہ کی طرف سے ان کو الہام ہوجاتا تھا ۔ نیز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ خطاب کا فرزند عمر ہوتا۔ تو انہی موافقات عمر (رض) میں سے یہ آیت بھی ہے۔