4590- "علي رضي الله عنه" عن علي قال "سمعت النبي صلى الله عليه وسلم قرأ آية ثم فسرها، وما أحب أن لي بها الدنيا وما فيها: {وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ} ثم قال: "من أخذه الله بذنبه في الدنيا فالله أكرم أن يعيده عليه في الآخرة، وما عفا الله عنه في الدنيا؛ فالله أكرم من أن يعفو عنه في الدنيا ويأخذ منه في الآخرة". "ابن راهويه ابن مردويه".
4590: ۔۔ (علی (رض)) حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سنا آپ نے ایک آیت کی تلاوت فرمائی پھر اس کی تفسیر بیان فرمائی اور مجھے اس کے بدلے دنیا و ما فیہا کامل جانا بھی پسند نہیں ۔ وہ آیت ہے :
وما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم و یعفو عن کثیر۔ شوری : 30)
اور جو مصیبت تم پر واقع ہوتی ہو سو تمہارے اپنے فعلوں سے (ہے) اور وہ بہت سے گناہ تو معاف کردیتا ہے۔
پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جس کو اللہ نے دنیا میں کسی گناہ کی سزا دیدی تو اللہ پاک ایسے کریم ہیں کہ آخرت میں دوبارہ اس گناہ کی سزا نہیں دیں گے۔ اور اللہ پاک دنیا میں جس گناہ کو معاف کردیں تو اللہ پاک ایسے نہیں ہیں کہ دنیا میں تو اس گناہ کو معاف کردیں اور آخرت میں اس پر پکڑ فرمائیں گے۔ ابن راہویہ، ابن مردویہ۔