45927- "الصديق" عن قيس بن أبي حازم: جاء رجل إلى أبي بكر الصديق فقال: إن أبي يريد أن يأخذ مالي كله لحاجة! فقال لأبيه: إنما لك من ماله ما يكفيك، فقال: يا خليفة رسول الله! أليس قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أنت ومالك لأبيك؟ فقال: نعم، وإنما يعني بذلك النفقة، ارض بما رضي الله عز وجل. "طس، ق".
45927 قیس بن ابی حازم کی روایت ہے کہ ایک شخص حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا میرا باپ میرا سارا مال اپنی ضرورت میں خرچ کرنا چاہتا ہے حضرت ابوبکر (رض) نے اس شخص کے والد سے فرمایا : تم اس کے مال سے اتنا ہی لے سکتے ہو جو تمہیں کافی ہو باپ بولا : اے رسول اللہ کے خلیفہ ! کیا رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد نہیں ہے کہ تو بھی اور تیرا مال دونوں تمہارے باپ کا ہے ؟ ابوبکر (رض) نے فرمایا : جی ہاں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے نفقہ مراد لیا ہے تم اس سے راضی رہو جس سے اللہ تعالیٰ راضی رہا ہے۔ رواہ الطبرانی والاوسط والبیہقی