45930- عن أبي سعيد الأعور أن عمر بن الخطاب كان إذا قدم عليه قادم سأله عن الناس، فقدم قادم فسأله: من أين؟ قال: من الطائف، قال: فمه؟ قال رأيت بها شيخا يقول:
تركت أباك مرعشة يداه ... وأمك ما تسيغ لها شرابا إذا نغب 1 الحمام ببطن وج 2 ... على بيضاته ذكرا كلابا
قال: ومن كلاب؟ قال: ابن للشيخ كان غازيا، فكتب عمر فيه، "الفاكهي في أخبار مكة".
45930 ابوسعید اعور کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) کے پاس جب کوئی آنے والا آتا اس سے وہاں کے لوگوں کے حالات دریافت فرماتے چنانچہ آپ (رض) کے پاس ایک شخص آیا اس سے دریافت کیا : تم کہاں سے آئے ہو ؟ اس شخص نے جواب دیا : میں طائف سے آیا ہوں۔ اس سے دریافت کیا : تم کہاں سے آئے ہو ؟ اس شخص نے جواب دیا : میں طائف سے آیا ہوں۔ فرمایا : رک جا میں نے وہاں ایک بوڑھے شخص کو کہتے سنا ہے۔ ترکت اباک مرعشۃ یداہ ۔ وامک ما تسبیغ لھا شرابا۔ میں نے تمہارے باپ چھوڑا ہے اس کے ہاتھ رعشہ کی وجہ سے کانپ رہے تھے اور تمہاری ماں کے گلے سے نیچے پانی بھی نہیں اترسکتا تھا۔ اذا نغب الحمام ببطن وج۔ علی بیضاتہ ذکراً کلابا۔ جب مقام بطن وج میں کوئی کبوتر اپنے انڈوں پر بیٹھ کر پانی پیتا ہے تو کلاب کو یاد کرتا ہے۔ پوچھا کہ کلاب کون ہے۔ فرمایا : وہ بوڑھے کا بیٹا ہے وہ غازی تھا۔ رواہ الفاکھی فی اخبار مکہ