45944- عن عمرو بن حماد قال حدثنا رجل قال: خرج علي وعمر من الطواف فإذا هما بأعرابي معه أم له يحملها على ظهره وهو يرتجز ويقول:
أنا مطيتها لا أنفر ... وإذا الركاب ذعرت لا أذعر
وما حملتني وأرضعتني أكثر ...
لبيك! اللهم لبيك! فقال علي: يا أبا حفص! ادخل بنا الطواف لعل الرحمة تنزل فتعمنا، فدخل يطوف بها وهو يقول:
أنا مطيتها لا أنفر ... وإذا الركاب ذعرت لا أذعر
ما حملتني وأرضعتني أكثر ...
لبيك! اللهم لبيك! وعلى يقول:
إن تبرها فالله أشكر ... يجزيك بالقليل الأكثر
. "هب".
45944 عمرو بن حماد ایک شخص سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی (رض) اور حضرت عمر (رض) طواف سے فارغ ہو کر ماہر تشریف لائے کیا دیکھتے ہیں کہ ایک اعرابی نے پیٹھ پر اپنی ماں اٹھائی ہوئی ہے اور وہ یہ رجز یہ اشعار پڑھ رہا ہے۔ انا مطی تھا الانفر ۔ واذا الرکاب ذعرت الازعر۔ وما حملتنی وارضعتنی اکیر۔ میں اپنی والدہ کی سواری ہوں اور مجھے اس سے نفرت بھی نہیں ہے اس وقت کہ جب اچھی خاصی سواریاں بھی دہشت زدہ ہوجاتی ہیں میں دہشت زدہ نہیں ہوتا، حالانکہ میری ماں نے مجھے اتنا زیادہ اٹھایا ہے اور نہ زیادہ دودھ پلایا ہے۔ لبیک ، اللھم لبیک۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : اے ابوحفص ! آئیے پھر طواف کے لیے چلتے ہیں، شاید ہم بھی رحمت میں غریق ہوجائیں چنانچہ اعرابی اپنی ماں کو لیے طواف کے لیے داخل ہوا اور یہ اشعار پڑھتا رہا۔۔ انا مطی تھا لا انفرا۔ واذا الرکاب ذعرت لاازعر۔ وما حملتنی وارضعتنی اکثر۔ لبیک اللھم البیک۔ حضرت علی کرم (رض) نے اس پر شعر پڑھا۔ ان تبرھا فاللہ اشکر۔ یجزیک بالقلیل الاکثر۔ اگر تم اپنی ماں کے ساتھ بھلائی کرتے ہو تو اللہ تعالیٰ بھی تم سے کہیں زیادہ پاسداری کرنے والا ہے اور تمہیں تھوڑے احسان کے بدلہ میں کہیں زیادہ اجر عطا فرمائے گا۔