45949- عن محمد بن سلام قال: استعمل عمر بن الخطاب رجلا على عمل، فرأي عمر يقبل صبيا له، تقبله وأنت أمير المؤمنين! لو كنت أنا ما فعلته، قال عمر: فما ذنبي إن كان نزع من قلبك الرحمة! إن الله لا يرحم من عباده إلا الرحماء؛ ونزعه عن عمله فقال: أنت لا ترحم ولدك فكيف ترحم الناس. "الدينوري".
45949 محمد بن سلام کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے ایک شخص کو کسی سرکاری کام کی ذمہ داری سونپی، اس شخص نے دیکھا کہ آپ (رض) اپنے ایک بچے کو بوسہ دے رہے ہیں وہ شخص بولا : آپ امیر المومنین ہیں اور پھر بچے کا بوسہ بھی لے رہے ہیں کاش میں بھی ایسا کرتا۔ آپ (رض) نے فرمایا : اس میں میرا کیا گناہ ہے کہ اگر تیرے دل سے رحمت چھین لی گئی ہے ، بلاشبہ اللہ تعالیٰ بھی اپنے ایسے ہی بندوں پر رحمت کرتا ہے جو رحمدل ہوں چنانچہ آپ (رض) نے اس شخص کو معزول کردیا اور فرمایا : جب تم اپنی اولاد پر رحم نہیں کرتے ہو تو لوگوں پر کیسے رحم کرو گے۔ رواہ الدینوری