45957- "أيضا" أعطاني أبي عطية فقالت أمي عمرة بنت رواحة: لا أرضى حتى تشهد النبي صلى الله عليه وسلم، فأتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: "إني أعطيت ابني من عمرة عطية فأمرتني أن أشهدك، فقال:" أعطيت كل ولدك مثل هذا؟ قال: لا، قال: فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم لا أشهد على جور. " ش".
45957” ایضائ “ حضرت نعمان بن بشیر (رض) کی روایت ہے کہ میرے والد نے مجھے کچھ عطیہ دینا چاہا، میری والدہ عمرہ بنت رواحہ کہنے لگیں۔ میں اس وقت تک راضی نہیں ہوں گی جب تک آپ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس پر گواہ نہ بنالیں۔ چنانچہ والد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : میں نے اپنے بیٹے جو کہ عمرہ سے ہے کو کچھ عطیہ دینا چاہا ہے عمرو نے مجھے کہا ہے کہ اس پر میں آپ کو گواہ بنالوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم نے اپنے ہر بیٹے کو اسی طرح عطیہ دیا ہے ؟ عرض کیا : نہیں فرمایا : اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اپنی اولاد میں عدل قائم کرو میں ظلم پر گواہی نہیں دیتا ہوں۔ رواہ ابن ابی شیبہ