4601- عن عروة أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يقرئ شابا فقرأ: " {أَفَلا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَى قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا} فقال الشاب: عليها أقفالها حتى يفرجها الله، فقال النبي صلى الله عليه سلم: صدقت، وجاءه ناس من أهل اليمن فسألوه أن يكتب لهم كتابا، فأمر عبد الله بن الأرقم أن يكتب لهم كتابا فكتب لهم فجاء به، فقال أصبت، وكان عمر يرى أنه سيلي من أمر الناس شيئا، فلما استخلف عمر سأل عن الشاب؟ فقالوا: استشهد فقال عمر: قال النبي صلى الله عليه وسلم: كذا وكذا، فقال الشاب: كذا وكذا فقال النبي صلى الله عليه وسلم: فعرفت أن الله سيهديه، واستعمل عمر عبد الله بن الأرقم على بيت المال". "ابن راهويه وابن جرير وابن المنذر وابن مردويه".
4601: ۔۔ حضرت عروہ (رح) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک جوان کو پڑھاتے ہوئے یہ آیت پڑھی :
افلا یتدبرون القرآن ام علی قلوب اقفالہا۔ احقاف : 24
بھلا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا (ان کے) دلوں پر تالے لگ رہے ہیں۔ جوان نے کہا : دلوں پر تو تالے ہی ہوتے ہیں جب تک اللہ پاک نہ کھولے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے سچ کہا :
پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس یمن کا ایک وفد آیا انھوں نے درخواست دی کہ ان کے لیے ایک کتاب (خط) لکھ دی جائے۔ آپ نے عبداللہ بن الارقم کو فرمایا کہ ان کو کتاب لکھ دو ۔ انھوں نے کتاب لکھ کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دکھائی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو درست قرار دیا۔
حضرت عمر (رض) کو خیال ہوتا تھا کہ شاید لوگوں کی ذمہ داری کبھی ان کو سپرد کی جائے گی۔ جب آپ (رض) خلیفہ بنے تو آپ (رض) نے اسی جوان کے متعلق دریافت کیا لوگوں نے کہا وہ تو شہید ہوگئے ہیں حضرت عمر (رض) نے فرمایا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یوں یوں فرمایا اس جوان نے بھی بعینہ یوں ہی کہا۔ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یوں مجھے معلوم ہوگیا کہ اللہ اس کو ہدایت دے گا۔ پھر حضرت عمر (رض) نے عبداللہ بن ارقم (رض) کو بیت المال پر امیر مقرر کردیا۔ ابن راھویہ، ابن جریر، ابن المنذر ، ابن مردویہ۔