46000- عن أسامة بن أخدري أن رجلا من بني شقرة يقال له اصرم وكان في النفر الذين أتوا النبي صلى الله عليه وسلم فأتاه بغلام له حبشي اشتراه من تلك البلاد. فقال: يا رسول الله! إني اشتريت هذا وأحببت أن تسميه وتدعو له بالبركة، قال: "ما اسمك أنت؟ قال: أنا أصرم، قال: بل أنت زرعة، قال: ما تريده؟ قال أريده راعيا، فقال: هو عاصم هو عاصم وقبض النبي صلى الله عليه وسلم كفه. "د 1، والحسن بن سفيان، والبغوي، وابن السكن، وقالا: ليس له غير هذا الحديث. والباوردي، وابن قانع، طب، ك، وأبو نعيم، خط في المتفق والمفترق، ض".
46000 اسامہ بن اخدری کی روایت ہے کہ بنی شقرہ کا ایک شخص تھا جیسے اصرم کہا جاتا تھا، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آنے والی جماعت میں وہ بھی شامل تھا یہ شخص آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک حبشی غلام لے کر حاضر ہوا جو اس نے ان علاقوں سے خرید رکھا تھا عرض کیا : یارسول اللہ ! میں نے یہ غلام خریدا ہے میں چاہتا ہوں کہ آپ اس کا نام رکھیں اور اس کے لیے برکت کی دعا کریں، ارشاد فرمایا : تم بتاؤ تمہارا کیا نام ہے ؟ عرض کیا : میرا نام اصرم ہے فرمایا : بلکہ تمہارا نام زرعہ ہے فرمایا : تم اس غلام سے کیا کام لینا چاہتے ہو ؟ عرض کیا : میں اسے چرواہا بنانا چاہتاہوں ؟ فرمایا : اس کا نام عاصم ہے اس کا نام عاصم ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ہتھیلی جوڑلی۔۔ رواہ ابوداؤد، والحسن بن سفیان والبغوی وابن السکن وقال لیس لہ غیر ھذا الحدیث والباوردی وابن قانع والطبرانی والحاکم و ابونعیم والخطیب فی المتفق والمفترق والضیاء