4609- عن مجاهد قال كتب إلى عمر: يا أمير المؤمنين رجل لا يشتهي المعصية، ولا يعمل بها أفضل؟ أم رجل يشتهي المعصية ولا يعمل بها؟ فكتب عمر: إن الذين يشتهون المعصية ولا يعلمون بها: {أُولَئِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَى لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ} ."حم في الزهد".
4609: ۔۔ مجاہد (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) کے پاس ایک مراسلہ آیا جس میں مکتوب تھا :
یا امیر المومنین ! ایک شخص جو معصیت کی خواہش ہی نہیں رکھتا اور نہ معصیت کا ارتکاب کرتا ہے اور ایک شخص معصیت کی خواہش تو رکھتا ہے لیکن اس پر عمل نہیں کرتا، بتائیے دونوں میں سے کون سا شخص افضل ہے ؟
حضرت عمر (رض) نے جواب لکھوایا :
جو شخص معصیت کی خواہش تو رکھتا ہے لیکن اس پر عمل نہیں کرتا (وہ دوسرے سے افضل ہے) کیونکہ ارشاد خداوندی ہے :
اولئک الذین امتحن اللہ قلوبہم للتقوی لھم مغفرۃ واجر عظیم۔ الحجرات۔ 3
یہی لوگ ہیں خدا نے ان کے دل تقوی کے لیے آزما لیے ہیں ان کے لیے بخشش اور اجر عظیم ہے۔ الزھد للامام احمد (رح)