(46158 -) عن ابي جعفر ان رسول الله ص خرج في جيش فأدركته القائلة وهو ما يلي الينبع فاشتد عليه حر النهار فانتهوا إلى سمرة فعلقوا اسلحتهم عليها وفتح الله عليهم ، فقسم رسول الله ص موضع السمرة لعلي في نصيبه ، قال : فاشتري إليها بعد ذلك فأمر مملوكيه ان يفجروا لها عينا ، فخرج لها مثل عين الجزور فجاء البشير يسعى إلى علي يخبره بالذي كان ، فجعلها علي صدقة فكتبها : صدقة لله تعالى يوم تبيض وجوه وتسود وجوه ، ليصرف الله بها وجهي عن النار ، صدقة بتة بتلة في سبيل الله تعالى ، للقريب والبيعة ، في السلم والحرب واليتامى والمساكين وفي الرقاب (ابن جرير).
46158 ابوجعفر کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک لشکر کے ساتھ تشریف لے گئے راستہ میں قیلولہ کا وقت ہوگیا دن کی تپش شدید ہوئی صحابہ کرام (رض) ببول کے ایک درخت کی طرف بھاگے اس پر انھوں نے اپنا اسلحہ لٹکایا صحابہ کرام (رض) کو اللہ تعالیٰ نے جنگ میں فتح مند کیا تھا رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ببول کے درخت والی جگہ حضرت علی (رض) کے حصہ میں تقسیم کی روای کہتے ہیں : اس کے بعد حضرت علی (رض) نے اپنے دو غلاموں کو حکم دیا کہ اس زمین میں کنواں کھودو۔ چنانچہ وہاں اونٹ کی آنکھ کے برابر چشمہ نکل آیا چانچہ ایک شخص اس کی خوشخبری سنانے حضرت علی (رض) کے پاس دوڑتا ہوا آیا حضرت علی (رض) نے یہ زمین صدقہ کردی اور اس پر تحریر لکھ دی کہ یہ زمین تاقیامت صدقہ رہے گی جس دن کچھ چہ رہے چمکدار ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ پڑے ہوں گے تاکہ اللہ تعالیٰ اس دن مجھے دوزخ کی آگ سے دور رکھے یہ زمین ایسا صدقہ ہوگا جو یقینی اور بےمثل وبے تعلق ہوگا اور فی سبیل اللہ صدقہ ہے قریب کے لیے بھی اور دور کے لیے بھی حالت امن میں بھی، اور حالت جنگ میں بھی ، یتیموں اور مسکینوں کے لیے بھی اور غلاموں کے لیے بھی۔ رواہ ابن جریر