4618- عن الحسن قال: سأل صبيغ التميمي عمر بن الخطاب عن الذاريات ذروا، وعن المرسلات عرفا، وعن النازعات غرقا؟ فقال عمر: "اكشف رأسك، فإذا له ضفيرتان، فقال عمر: والله لو وجدتك محلوقا لضربت عنقك، ثم كتب إلى أبي موسى الأشعري أن لا يكلمه مسلم ولا يجالسه". "الفريابي ورواه ابن الأنباري في المصاحف عن محمد بن سيرين. ومر برقم [4173] ".
4618: ۔۔ حضرت حسن (رض) سے مروی ہے کہ صبیغ تمیمی نے حضرت عمر بن خطاب (رض) سے :
الذاریات ذروا، المرسلات عرفا اور النازعات غرقا کے بارے میں سوال کیا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اپنا سر کھول دیکھا تو بالوں کی دو مینڈھیاں بنی ہوئی ہوئی ہیں حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اگر میں تجھے گنجا سر پاتا۔ (جو کہ گمراہ حروریوں کا طریقہ تھا) تو تیری گردن اڑا دیتا پھر حضرت عمر (رض) نے حضرت ابو موسیٰ (رض) کو لکھا کہ کوئی مسلمان اس کے ہاتھ بات چیت کرے اور نہ اس کے ساتھ اٹھے بیٹھے۔ الفریابی، ابن الانباری فی المصاحف عن محمد بن سیرن (رح)۔
نوٹ : 4173 پر یہ روایت گذر چکی ہے۔