46252- "لا هجرة، ولكن جهاد ونية، وإذا استنفرتم فانفروا، فإن هذا بلد حرمه الله يوم خلق السماوات والأرض، وهو حرام بحرمة الله إلى يوم القيامة، وإنه لم يحل القتال فيه لأحد قبلي ولم يحل إلا ساعة من نهار فهو حرام بحرمة الله إلى يوم القيامة، لا يعضد شوكه ولا ينفر صيده، ولا يلتقط لقطته إلا من عرفها، ولا يختلى خلاها إلا الإذخر. " حم، ق، د، ن - عن ابن عباس.
46252 ہجرت نہیں ہے لیکن جہاد ہے اور خلوص نیت ہے جب تم سے جہاد میں نکلنے کا مطالبہ کیا جائے تو جہاد کے لیے نکلو۔ جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اس دن سے اس شہر (مکہ مکرمہ) کو حرمت والا قرار دیا ہے۔ اس شہر میں مجھ سے قبل جنگ حلال نہیں ہوئی اور اب میرے لیے دن کے کچھ وقت کے لیے حلال کی گئی ہے اس شہر میں تاقیامت جنگ حرام ہے۔ اس شہر کے کانٹے بھی نہ کاٹے جائیں اور نہ ہی اس کے شکار کو بھگایا جائے اور نہ ہی اس شہر میں گری پڑی چیز کو اٹھایا جائے البتہ وہ شخص اسے اٹھاسکتا ہے جو اسے پہچانتا ہو۔ اور سوائے اذخرگھاس کی کوئی اور گھاس نہ کاٹی جائے۔ رواہ احمد بن حنبل والبخاری ومسلم وابوداؤد والنسائی عن ابن عباس