46289- عن عمر قال: كنا قد استبطأنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في القدوم علينا وكانت الأنصار يغدون إلى ظهر الحرة فيجلسون عليها حتى يرتفع النهار، فإذا ارتفع النهار وحميت الشمس رجعت إلى منازلها، فكنا ننتظر رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا رجل من اليهود قد أوفى على أطم من آطامهم، فقال: يا معشر العرب! هذا صاحبكم الذي تنتظرون! ّوسمعت الوجبة في بني عمرو بن عوف. "البزار، وحسنه الحافظ ابن حجر في فوائده".
46289 حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : ہم مدینہ میں سخت انتظار میں دیتے تھے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس کب تشریف لائیں گے ۔ انصار صبح کو ایک ٹیلے پر چڑھ جاتے اور اس پر بیٹھ جاتے حتیٰ کہ سورج بلند ہوجاتا جب سورج بلند ہو کر تپش دینے لگتا لوگ اپنے گھروں کو واپس لوٹ آتے اسی دوران ہم رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتنظار میں تھے اچانک ایک یہودی جو ٹیلے پر کھڑا تھا پکارنے لگا : اے جماعت عرب ! یہ ہیں تمہارے صاحب جن کا انتظار میں تم لگے ہوئے ہو۔ رواہ البزار وحسنہ الحافظ ابن حجر فی فوائد