46294- "مسند البراء بن عازب" أول من قدم علينا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم مصعب بن عمير، وابن أم مكتوم، فجعلا يقرآننا القرآن، ثم جاء عمار وبلال وسعد، ثم جاء عمر بن الخطاب في عشرين، ثم جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم، فما رأيت أهل المدينة فرحوا بشيء فرحهم به، فما قدم حتى قرأت {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى} في سور من المفصل. "ش".
46394” مسند براء بن عازب “ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام (رض) میں سے سب سے پہلے یہ حضرات ہمارے پاس تشریف لائے ہیں حضرت مصعب بن عمیر (رض) ، ابن ام مکتوم یہ دونوں حضرات ہمیں قرآن پڑھاتے تھے پھر حضرت عمار (رض) ، بلال (رض) سعید (رض) آئے پھر حضرت عمر بن خطاب (رض) بیس آدمیوں کے ہمراہ تشریف لائے ۔ پھر رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے میں نے اہل مدینہ کو اتنا زیادہ خوش ہوتے نہیں دیکھا جتنا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آمد پر خوش ہوئے تھے آپ اس وقت تشریف لائے جب میں نے سورت ” سبح اسم ربک الاعلیٰ “ پڑھ لی جو کہ اوساط مفصل میں سے ہے۔ رواہ ابن ابی شیبۃ