hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 46328

.

كنز العمال

46328
Kanz al-Ummal
46316- عن أسماء بنت أبي بكر قالت: كنت أحمل الطعام إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبى وهما في الغار، فجاء عثمان إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله! إني أسمع من المشركين من الأذى فيك ما لا صبر عليه، فوجهني وجها أتوجه فلأهجرنهم في ذات الله! فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: "أزعمت يداك يا عثمان؟ قال: نعم، قال: فليكن وجهك إلى هذا الرجل بالحبشة - يعني النجاشي، فإنه ذو وفاء، واحمل معك رقية فلا تخلفها، ومن رأى معك من المسلمين مثل رأيك فليتوجهوا هناك، وليحملوا معهم نساءهم، ولا يخلفوهم، فودع عثمان نبي الله صلى الله عليه وسلم وقبل يديه، فبلغ عثمان رسالة رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال لهم: إني خارج من تحت ليلتي، ونقيم لكم بجدة ليلة أو ليلتين، فإن أبطأتم فوجهي إلى باضع - جزيرة في البحر - قالت: فحملت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال لي: ما فعل عثمان ورقية؟ قلت: قد سارا فذهبا، فقال: قد سارا فذهبا؟ قلت: نعم، فالتفت إلى أبي بكر فقال: زعمت أسماء أن عثمان ورقية قد سارا فذهبا، والذي نفسي بيده إنه لأول من هاجر بعد إبراهيم ولوط. "كر
46316 اسماء بنت ابی بکر (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور میرے والد (ابوبکر (رض)) غار میں تھے ان کے پاس کھانا میں ہی لے جایا کرتی تھی، چنانچہ ایک دن عثمان (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یارسول اللہ ! میں مشرکین سے آپ کے متعلق اذیت بھری باتیں سنتا ہوں، جنہیں سن کر صبر کا پیمانہ لبریز ہوجاتا ہے ، لہٰذا آپ مجھے کہیں بھیج دیں تاکہ میں یہاں سے چلا جاؤں میں ان مشرکین کو محض اللہ کی خاطر ضرور چھوڑ دوں گا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا اے عثمان ! تم نے پختہ عزم کرلیا ہے ؟ عرض کیا : جی ھاں۔ فرمایا : تم حبشہ میں نجاشی کے پاس چلے جاؤ چونکہ وہ بڑا وفادار ہے اور اپنے ساتھ رقیہ کو بھی لیتے جاؤ اسے اپنے پیچھے مت چھوڑ کر جاؤ۔ اور مسلمانوں میں سے جس کی بھی تمہاری جیسی رائے ہو وہ بھی چلا جائے اور وہ بھی اپنے ساتھ اپنی عورتوں کو لے کر جائیں چنانچہ عثمان (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو الوداع کہا اور آپ کے ہاتھ مبارک چومے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حضرت عثمان (رض) کا پیغام ملا وہ یہ کہ انھوں نے کہا : میں آج رات نکل جاؤں گا اور ہم ایک یا دو راتیں جدہ قیام کریں گے اگر آپ سے تاخیر ہوجائے تو میں جزیرہ باضع میں چلا جاؤں گا۔ اسمائ (رض) کہتی ہیں یہ پیغام میں ہی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے کر آئی تھی آپ نے مجھ سے فرمایا : عثمان اور رقیہ نے کیا کیا ؟ میں نے جواب دیا : وہ دونوں جاچکے ہیں فرمایا : کیا وہ جاچکے ہیں ؟ میں نے کہا : جی ہاں۔ پھر آپ نے ابوبکر (رض) کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : اسماء کہتی ہے کہ عثمان اور رقیہ جاچکے ہیں قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ابراہیم اور لوط کے بعد وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے ہجرت کی ہے۔ رواہ ابن عساکر