4635- عن الحسن قال: كان شاب على عهد عمر بن الخطاب يلازم المسجد والعبادة، فعشقته جارية فأتته في خلوة، فكلمته فحدث نفسه بذلك، فشهق شهقة فغشي عليه، فجاء عم له فحمله إلى بيته، فلما أفاق قال يا عم انطلق إلى عمر فأقرئه مني السلام، وقل ما جزاء من خاف مقام ربه؟ فانطلق عمه فأخبر عمر، وقد شهق الفتى شهقة أخرى فمات منها، فوقف عليه عمر، فقال: لك جنتان لك جنتان. "هب".
4635: ۔۔ حضرت حسن (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کے زمانے میں ایک نوجوان شخص تھا جو اکثر وقت مسجد میں رہتا تھا ۔ ایک لڑکی اس نوجوان عابد پر عاشق ہوگئی اور اس نوجوان کے پاس اس کی تنہائی میں آئی۔ اور اس کو بہلانے پھسلانے کی کوشش کی۔ نوجوان کے دل میں بھی اس کا خیال پیدا ہوگیا۔ پھر نوجوان نے ایک چیخ ماری اور بےہوش ہو کر گرپڑا۔ نوجوان کا چچا آیا اور اس کو اٹھا کر گھر لے گیا جب نوجوان کو ہوش آیا تو اس نے اپنے چچا سے کہا : اے چچا ! حضرت عمر (رض) کے پاس جاؤ اور انھیں میرا سلام کہو اور پھر پوچھو کہ اس شخص کی کیا جزاء ہے ؟ جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا (اور گناہ سے باز آگیا) چنانچہ اس کا چچا گیا اور حضرت عمر (رض) کو ساری خبر سنائی حضرت عمر (رض) خود چل کر اس نوجوان کے پاس آئے۔ نوجوان کا چچا جیسے ہی جدا ہوا تھا پیچھے سے نوجوان نے ایک اور چیخ ماری تھی اور صدمے سے فوت ہوگیا لہٰذا حضرت عمر اس نوجوان کی میت کے پس کھڑے ہوئے اور فرمایا : تیرے لیے دو جنت ہیں، تیرے لیے دو جنت ہیں۔ شعب الایمان للبیہقی۔