4643- عن أبي عبد الرحمن السلمي قال قرأ علي الواقعة في الفجر فقرأ: "وتجعلون شكركم أنكم تكذبون" فلما انصرف قال: إني قد عرفت أنه سيقول قائل لم قرأ كذا إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرؤها كذلك "كانوا إذا مطروا قالوا مطرنا بنوء كذا وكذا"، فأنزل الله: {وتجعلون شكركم أنكم} إذا مطرتم {تُكَذِّبُونَ} .
"ابن مردويه".
4643: ۔۔ ابو عبدالرحمن سلمی (رح) سے منقول ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فجر کی نماز میں یہ آیت یوں تلاوت فرمائی :
وتجعلون شکرکم انکم تکذبون۔ (رزقکم کی بجائے شکرکم پڑھا) پھر جب آپ (رض) نماز سے لوٹنے لگے تو فرمایا : مجھے معلوم ہے کوئی نہ کوئی ضرور پوچھے گا کہ یوں کیوں پڑھا ؟ تو سنو ! میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یوں ہی پڑھتے ہوئے سنا۔ جب بارش ہوئی تھی تو لوگ کہتے تھے۔ ہم پر فلاں فلاں ستارہ کی وجہ سے برسات پڑی ہے۔ تب اللہ پاک نے یہ فرمان نازل کیا :
وتجعلون شکرکم انکم تکذبون۔ رواہ ابن مردویہ۔
فائدہ : ۔۔ حضرت علی (رض) نے تفسیر کی غرض سے رزقکم کی جگہ شکرکم پڑھا تھا اسی وجہ سے خود ہی فرمایا کہ تم مجھ سے ضرور پوچھوگے کہ میں نے ایسے کیوں پڑھا ؟
اس طرح ما قبل میں بعض آیات میں حضرت علی (رض) سے اسی طرح تفسیری الفاظ منقول ہیں۔ ان کا یہ مطلب نہیں کہ آپ ان کو بطور قرآن پڑھتے تھے، بلکہ ان لوگوں کو تفسیر سمجھانے کی غرض سے ایسا پڑھ دیتے تھے۔