46455- "يا أيها الناس! إنه ما كان من حلف في الجاهلية فإن الإسلام لم يزده إلا شدة، ولا حلف في الإسلام، والمسلمون يد على من سواهم، تكافأ دماؤهم، يجير عليهم أدناهم، ويرد عليهم أقصاهم، يرد سراياهم على قعدهم، لا يقتل مؤمن بكافر، دية الكافر دية نصف دية المسلم، لا خبب ولا جنب ، ولا تؤخذ صدقاتهم إلا في ديارهم. " حم، ق - عن ابن عمرو".
46455 اے لوگو ! جاہلیت میں ہونے والے عہدوپیماں کی اسلام نے شدت سے پاسداری کی ہے اسلام میں عہدو پیماں جائز نہیں ہے مسلمان غیروں پر ایک ہاتھ کی مانند ہیں ان کے خون برابر ہیں ان کا ادنیٰ مسلمان بھی پناہ دے سکتا ہے، اور وہ مسلمان بھی حق رکھتا ہے جو سب مسلمانوں سے کہیں دور ہو اور ان کا لشکر پیچھے بیٹھے ہوؤں کو بھی حقدار سمجھتا ہے مومن کو کافر کے بدلہ میں قتل نہیں کیا جائے گا۔ کافر کی دیت مسلمان کی دیت کے نصف ہے اور زکوۃ وصول کرنے والا زکوۃ کے مویشیوں کو نہ کھینچو منگوائے اور زکوۃ دینے والے اپنے مویشیوں کو کہیں دور لے کر نہ چلے جائیں زکوۃ ان کے گھروں پر ہی لی جائے۔ رواہ احمد بن حنبل والبخاری ومسلم عن ابن عمرو