46458- "ما يسرني أن لي حمر النعم وأني نقضت الحلف الذي في دار الندوة. " ق - عن ابن عباس".
46458 مجھے یہ چیز خوش نہیں کرے گی کہ میرے لیے سرخ اونٹ ہوں اور میں دارالندوہ میں ہونے والی قسم وپیماں کو توڑ دوں۔ رواہ البخاری ومسلم عن ابن عباس۔ فائدہ : لاحلف فی الاسلام یعنی اسلام میں عہدوپیماں جائز نہیں۔ اس کا معنی یہ ہے کہ جاہلیت میں رواج تھا کہ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے عہدوپیماں باندھ لیا کرتے تھے کہ ہم دونوں ایک دوسرے کے وارث ہوں گے لڑائی جھگڑے کے موقع پر ایک دوسرے کی مدد کی جائے گی اگر ایک پر تاوان واجب ہوگا تو دوسرا تاوان ادا کرے گا۔ چنانچہ رسول کریم۔ کلام : حدیث ضعیف ہے دیکھئے نے اس قسم کے عہدوپیماں سے منع فرمایا : لیکن جاہلیت میں اس طرح کے عہدوپیماں بھی رہتے تھے کہ لوگ آپس میں جمع ہوجاتے اور عہد کرتے کہ سب مظلوم کی مدد کریں گے قرابتداروں سے حسن سلوک کریں گے انسانی حقوق کی حفاظت کریں گے اس صورت کو اسلام نے بھی جائز رکھا ہے اور بلکہ اسے مضبوطی سے پکڑنے کی تاکید کی ہے۔ ازمترجم محمد یوسف تنولی