46491- "أطلقا قرانكما، فلا نذر إلا فيما ابتغى به وجه الله. " ن - عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده؛ حم عنه" أن رسول الله صلى الله عليه وسلم رأى رجلين وهما مقترنان يمشيان إلى البيت، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما بال القران؟ فقالا: نذرنا أن نمشي إلى البيت مقترنين، قال - فذكره".
46491 تم اپنی جوڑی بند چال کو ختم کردو نذر تو اسی صورت میں ہوتی ہے جب اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہو۔ (رواہ النسائی عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ واحمد بن حنبل عنہ) روایت کا پس منظر یہ ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو شخصوں کو اکٹھے جوڑی بنا کر بیت اللہ کی طرف چلتے ہوئے دیکھا آپ نے فرمایا ! تم نے یہ کیسی جوڑی بنا رکھی ہے ؟ انھوں نے جواب دیا ہم نے نذر مان رکھی ہی کہ ہم جوڑی بنا کر بیت اللہ تک پیدل جائیں گے۔ اس موقع پر آق نے یہ حدیث ارشاد فرمائی) ۔