hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 4668

.

كنز العمال

4668
Kanz al-Ummal
4668- عن ابن عباس قال: قلت لعمر بن الخطاب من المرأتان اللتان تظاهرتا؟ قال: عائشة وحفصة، وكان بدء الحديث في شأن مارية أم إبراهيم القبطية، أصابها النبي صلى الله عليه وسلم في بيت حفصة في يومها، فوجدت حفصة، فقالت: يا نبي الله لقد جئت إلي شيئا ما جئته إلى أحد من أزواجك، في يومي وفي دوري وعلى فراشي؟ قال: ألا ترضين أن أحرمها، فلا أقربها؟ قالت: بلى، فحرمها، وقال: لا تذكري ذلك لأحد، فذكرته لعائشة، فأظهره الله عليه، فأنزل الله تعالى: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْضَاتَ أَزْوَاجِكَ} . الآيات كلها فبلغنا أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كفر عن يمينه وأصاب جاريته. "ابن جرير وابن المنذر".
4668: ۔۔ ابن عباس (رض) سے مروی ہے میں نے حضرت عمر (رض) سے دریافت کیا : وہ دو عورتیں کون ہیں جنہوں نے (حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر) ایک دوسرے کی مدد کی تھی ؟ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : عائشہ اور حفصہ۔ اس واقعہ کی ابتداء یوں ہوئی تھی ام ابراہیم ماریہ قبطیہ (رض) (جو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہانڈی اور آپ کے لیے حلال کی تھی) ان سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حفصہ کے گھر ان کی باری کے دن میں ہمبستری کی ۔ حفصہ کو یہ بات پتہ چل گئی۔ ایساکام کیا ہے جو کسی اور بیوی کے پاس نہیں کیا، وہ بھی میرے دن میں، میری باری میں اور میرے ہی بستر پر۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حفصہ کو فرمایا : کیا تو اس بات پر راضی ہے کہ میں اس کو اپنے لیے حرام کرلوں اور کبھی اس کے قریب نہ لگوں ؟ حفصہ نے کہا : ہاں۔ پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو اپنے لیے حرام قرار دیدیا۔ اور حفصہ کو فرمایا : یہ بات کسی اور کو ذکر نہ کرنا۔ لیکن حفصہ نے عائشہ کو یہ بات بتادی۔ اور پھر اللہ پاک نے اپنے نبی کو یہ بات بتادی اور یہ سورت نازل کی :
یا ایہا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک تبتغی مرضات ازواجک۔ تمام آیات۔
حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : پھر ہمیں خبر پہنچی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی قسم کا کفارہ دیدیا ہے اور اپنی باندی سے بھی ہم بستر ہوئے ہیں۔ ابن جریر، ابن المنذر۔