4725- عن علي قال: نعى الله لنبيه صلى الله عليه وسلم نفسه حين أنزل الله عليه: {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ} فكان الفتح في سنة ثمان من مهاجر رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلما طعن في سنة تسع من مهاجره فتتابع عليه القبائل تسعى فلم يدر متى الأجل ليلا أو نهارا، فعمل على قدر ذلك فوسع السنن، وسدد الفرائض، وأظهر الرخص، ونسخ كثيرا من الأحاديث، وغزا تبوك، وفعل فعل مودع. "خط كر".
4725: ۔۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبی پر اذا جاء نصر اللہ والفتح نازل فرمائی تو درحقیقت آپ کی وفات کی خبر سنا دی۔ فتح مکہ ہجرت کے آٹھویں سال ہوچکی تھی۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہجرت کے نویں سال میں داخل ہوئے تو قبائل بھی دوڑے دوڑے آپ کے ہاتھوں اسلام میں داخل ہونے لگے تھے۔ تب آپ کو احساس ہوگیا کہ وقت اجل کسی بھی لمحے دن یا رات کو آسکتا ہے۔ لہٰذا آپ نے جانے کی تیاری شروع فرما دی، سنتوں میں گنجائش پیدا کی، فرائض کو درست کیا، رخصت کے احکام واضح کیے۔ بہت سی احادیث کو منسوخ قرار دیا۔ تبوک کا غزوہ کیا اور اس کے (بہت سے احکام) الوداع کہنے والے کی طرح انجام دیے۔ الخطیب فی التاریخ، ابن عساکر۔