4732- "مسند الصديق رضي الله عنه" عن أبي بكر الصديق قال: "كنت جالسا عند المقام ورسول الله صلى الله عليه وسلم في ظل الكعبة بين يدي إذا جاءت أم جميل بنت حرب بن أمية زوجة أبي لهب، ومعها فهران فقالت: أين الذي هجاني وهجا زوجي، والله لئن رأيته لأرضن أنثييه بهذين الفهرين، وذلك عند نزول: {تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ} فقلت لها؟ يا أم جميل إنه والله ما هجاك، ولا هجا زوجك، قالت: والله ما أنت بكذاب، وإن الناس ليقولون ذاك، ثم ولت ذاهبة، فقلت: يا رسول الله لم ترك، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "حال بيني وبينها جبريل". "ابن مردويه".
4732: ۔۔۔ (مسند صدیق (رض)) حضرت ابوبکر (رض) سے مروی ہے، آپ فرماتے ہیں : میں مقام ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کعبہ کے سائے میں میرے سامنے تشریف فرما تھے۔ ابو لہب کی بیوی جمیل بنت حرب بن امیہ آئی اس کے پاس دو پتھر بھی تھے۔
ابولہب کی بیوی ام جمیل کی ایذا رسانی
ام جمیل نے مجھ سے پوچھا : کہاں ہے وہ شخص جس نے میری اور میرے شوہر کی برائی کی ہے ؟ اللہ کی قسم ! اگر میں اس کو دیکھ لوں تو ان دونوں پتھروں کے ساتھ اس کے خصیے پیس ڈالوں گی۔ (وہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پوچھ رہی تھی) اور اس سے پہلے سورة لہب تبت یدا ابی لہب نازل ہوئی تھی (جس میں ابولہب اور اس کی بیوی ہر لعنت کی گئی تھی) آخر کار میں نے اس کو کہا اے ام جمیل ؟ اللہ کی قسم ! اس نے تیری برائی کی ہے اور نہ تیرے شوہر کی۔ ام جمیل بولی : اللہ کی قسم ! تو جھوٹا نہیں ہے۔ ویسے لوگ یہ کہہ رہے تھے۔ پھر وہ پیٹھ پھیر کر چلی گئی۔ میں نے (اس کے جانے کے بعد) عرض کیا : یا رسول اللہ ! اس نے آپ کو دیکھا نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے اور اس کے درمیان جبرائیل (علیہ السلام) حائل ہوگئے تھے۔ رواہ ابن مردویہ۔