4742- "أبي بن كعب" عن أبي أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "إن الله أمرني أن أقرأ عليك القرآن، فقرأ عليه لم يكن، وقرأ عليه إن ذات الدين عند الله الحنيفية لا المشركة ولا اليهودية ولا النصرانية ومن يعمل خيرا فلن يكفره، وقرأ عليه لو كان لابن آدم واد لأبتغى إليه ثانيا ولو أعطي إليه ثانيا لابتغى إليه ثالثا، ولا يملأ جوف ابن آدم إلا التراب ويتوب الله على من تاب". "ط حم ت حسن صحيح ك ص".
4742: ۔۔ (ابی بن کعب (رض)) ابی (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ تم کو قرآن پڑھ کر سناؤں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے " لم یکن " (یعنی سورة تنبیہ) تلاوت فرمائی اور یہ آیات تلاوت فرمائیں :
ان ذات الدین عنداللہ الحنفیۃ لا المشرکۃ ولا الیھودیۃ ولا النصرانیۃ و من یعمل خیرا فلن یکفرہ۔
اللہ کے ہاں (خالص) دین (ملت) حنیفیہ ہے۔ نہ شرک پرستی اور نہ یہودیت اور نہ ہی نصرانیت۔ اور جو نیک عمل کرتا ہے اللہ پاک اس کے نیک عمل کی ناقدری نہ فرمائے گا۔
اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابی (رض) کو یہ آیت بھی پڑھ کر سنائی :
لو کان لابن آدم واد لابتغی الیہ ثانیا ولوا اعطی الیہ ثانیا لابتغی الیہ ثالثا ولا یملا جوف ابن آدم الالتراب ویتوب اللہ علی من تاب۔
اگر ابن آدم کے پاس (سونے کی) ایک وادی ہو تو وہ دوسرے وادی حاصل کرنا چاہے گا اور اگر اس کے پاس دو وادی ہوں تو وہ تیسری وادی حاصل کرنے کی خواہش کرے گا۔ ابن آدم کے پیٹ کو تو (قبر کی) مٹی ہی بھر سکتی ہے اور اللہ پاک توبہ کرنے والے کی توبہ قبول فرماتے ہیں۔ (ابو داؤد الطیالسی، مسند احمد، ترمذی، حسن صحیح، مستدرک الحاکم، السنن لسعید بن منصور)