4758- عن الحسن أن عمر بن الخطاب سأل عن آية من كتاب الله فقيل "كانت مع فلان وقتل يوم اليمامة" فقال: "إنا لله، وأمر بالقرآن فجمع، فكان أول من جمعه في المصحف". "ابن أبي داود في المصاحف".
4758: ۔۔ حضرت حسن (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے کتاب اللہ کی ایک آیت کے بارے میں (لوگوں سے) پوچھا : کسی نے کہا : وہ تو فلاں شخص کے پاس تھی جو جنگ یمامہ میں شہید ہوگئے۔ حضرت عمر (رض) نے انا للہ پڑھی اور قرآن کو جمع کرنے کا حکم دیا۔ پس مصحف (یعنی نسخے) میں سب سے پہلے حضرت عمر (رض) نے ہی قرآن جمع کرایا۔ (ابن ابی داؤد فی المصاحف)
فائدہ : ۔۔ اس آیت کے متعلق حضرت عمر (رض) کا دریافت فرمانا اور پھر صحابہ کو اس کا علم نہ ہونا کہ فلاں کے پاس ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ ان حضرات کو وہ آیت یاد تھی۔ شہید ہونے والے صحابی کے پاس کسی شئی پر لکھی ہوئی تھی۔ اس لیے یہ منفی خیال مسترد ہے کہ جب وہ صحابی شہید ہوگئے تو پھر وہ آیت ضائع ہوگئی اور قرآن میں نہیں لکھی گئی۔ نیز اس روایت سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ دور صدیقی میں جمع قرآن کا کام مکمل نہ ہوا تھا۔ جیسا کہ اس روایت سے گزشتہ روایت میں محمد بن سیرین (رح) نے وضاحتا ارشاد فرما دیا۔