4763- عن محمد بن سيف قال: "سألت الحسن عن المصحف ينقط بالعربية؟ " قال: "أو ما بلغك كتاب عمر بن الخطاب أن تفقهوا في الدين، وأحسنوا عبارة الرؤيا، وتعلموا العربية". "أبو عبيد في فضائله وابن أبي داود".
4763: ۔۔ محمد بن سیف سے مروی ہے میں نے حضرت حسن (بصری) سے پوچھا : کہ یہ کیسا قران ہے جس میں نقطے لگے ہوئے ہیں ؟ فرمایا : کیا تم کو عمر بن خطاب کا مراسلہ نہیں پہنچا کہ دین میں فقہ (سمجھ بوجھ) حاصل کرو، خوب کی تعبیر اچھی دو ، اور عربیت سیکھو۔ (ابو عبید فی فضائلہ، ابن ابی داود)
جمع قرآن میں احتیاط اور اہتمام
فائدہ : ۔۔۔ پہلے جن مختلف چیزوں پر قرآن لکھا ہوا تھا اس قرآن میں نقطوں کے ساتھ الفاظ کی شکل نہ تھی۔ پھر جمع قرآن کے دوران الفاظ کو نقطوں کے ساتھ لکھا گیا اسی وجہ سے حضرت عمر (رض) نے فرمایا تھا کہ قرآن کا املاء قریشی یا ثقیفی نوجوان کروائی۔ لیکن اس جمع قرآن میں بھی نقطے تو لگا دیے گئے تھے لیکن اعراب (زبر زیر) وغیرہ نہیں تے بعد میں اموی دور میں حجاج بن یوسف کی زیر نگرانی اعراب کا کام تکمیل کو پہنچا۔ واللہ اعلم بالصواب۔