4768- حدثنا إسماعيل بن عياش عن عمر بن محمد بن زيد عن أبيه أن الأنصار جاؤوا إلى عمر بن الخطاب، فقالوا: يا أمير المؤمنين نجمع القرآن في مصحف واحد؟ فقال: "إنكم أقوام في ألسنتكم لحن وأنا أكره أن تحدثوا في القرآن لحنا وأبي عليهم"
4768: ۔۔ اسماعیل بن عیاش عن عمر بن محمد بن زید عن ابیہ۔ عیاش کہتے ہیں انصاری لوگ حضرت عمر (رض) کے پاس آئے اور عرض کیا : ہم ایک مصحف میں قرآن پاک جمع کرنا چاہتے ہیں۔ فرمایا تمہاری قوم کی زبان میں کچھ غلطی ہے اور مجھے ناپسند ہے کہ تم قرآن میں کوئی غلطی کر بیٹھو حالانکہ حضرت ابی (رض) ان کے اوپر تھے۔
فائدہ : ۔۔ ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : ابی (رض) ہم میں بڑے قاری ہیں لیکن ابی کی لحن (غلطی) کی وجہ سے ہم ان کو چھوڑتے ہیں۔ حالانکہ حضرت ابی (رض) فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منہ سے قرآن حاصل کیا ہے۔ صحیح البخاری 6/230