4776- عن أبي قلابة قال: "لما كان في خلافة عثمان جعل المعلم يعلم قراءة الرجل، والمعلم يعلم قراءة الرجل، فجعل الغلمان يتلقون فيختلفون حتى ارتفع ذلك إلى المعلمين، حتى كفر بعضهم بقراءة بعض، فبلغ ذلك عثمان" فقام خطيبا، فقال: "أنتم عندي تختلفون وتلحنون، فمن نأى عني من الأمصار أشد اختلافا وأشد لحنا، فاجتمعوا يا أصحاب محمد فاكتبوا للناس إماما"2 فقال أبو قلابة: "فحدثني مالك بن أنس قال أبو بكر بن داود هذا مالك بن أنس جد مالك بن أنس" قال: "كنت فيمن أملي عليهم فربما اختلفوا في الآية، فيذكرون الرجل قد تلقاها من رسول الله صلى الله عليه وسلم ولعله أن يكون غائبا أو في بعض البوادي، فيكتبون ما قبلها وما بعدها ويدعون موضعها حتى يجيء أو يرسل إليه، فلما فرغ من المصحف، كتب إلى أهل الأمصار: إني قد صنعت كذا وصنعت كذا، ومحوت ما عندي فامحوا ما عندكم" "ابن أبي داود وابن الأنباري ورواه خط في المتفق عن أبي قلابة عن رجل من بني عامر يقال له أنس بن مالك القشيري بدل مالك بن أنس.
4776: ۔۔ ابو قلابہ (رح) سے مروی ہے کہ دور عثمان (رض) میں کوئی معلوم کسی قرآءت پر قرآن پڑھاتا اور کوئی معلم کسی دوسری قراءت پر قرآن پڑھاتا۔ نتیجۃ لڑکے آپس میں ملاقات کے وقت ایک دوسرے سے اختلاف کرتے۔ حتی کہ بات بڑھتی ہوئی معلموں تک پہنچتی اور معلم بھی ایک دوسرے کی قراءت کا انکار کرتے۔ یہ بات حضرت عثمان (رض) کو پہنچی حضرت عثمان (رض) خطبہ ارشاد فرمانے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا :
تم لوگ میرے قریب ہوتے ہوئے اختلاف اور خطاء کا شکار ہو تو جو مجھ سے دور دوسرے شہروں میں بس رہے یں ان میں اور زیادہ سخت اختلاف اور شدید غلطیاں ہوں گی۔ پس اے اصحاب محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کے لیے ایک امام (والی حیثیت کا قرآن پاک) لکھ دو (جس کی طرف سب رجوع کریں۔
ابو قلابہ کہتے ہیں مجھے مالک بن انس (رح) نے بیان کیا، ابوبکر بن مالک کہتے ہیں یہ مالک بن انس (امام) مالک بن انس کے دادا ہیں۔ مالک بن انس کہتے ہیں میں ان لوگوں میں تھا جن کو قرآن املاء کروایا (اور لکھوایا) جاتا تھا۔ لہٰذا کبھی کسی آیت میں اختلاف ہوجاتا تو ایسے آدمی کو یاد کرتے جس نے اس آیت کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لیا ہوتا تھا۔ کبھی وہ غائب ہوتا یا کسی دیہات میں ہوتا تو کاتبین اس سے ماقبل اور مابعد آیات لکھ لیتے اور اس آیت کی جگہ چھوڑ دیتے۔ حتی کہ وہ صحابی خود اجاتا یا ان کو پیغام بھیج کر بلوا لیا جاتا۔ اس طرح جب مصحف شریف کی کتابت سے فراغت ہوئی تو حضرت عثمان (رض) نے تمام شہر والوں کو لکھا : میں نے ایسا کام کیا ہے اور یہ یہ مٹا دیا ہے پس اس کے مثل جو تمہارے پاس ہو تم اس کو مٹا دو ۔ (اور جیسا میں نے لکھا ہے ویسا تم بھی لکھا رہنے دو ) ( ابن ابی داؤد الانباری، رواہ الخطیب فی المتفق عن ابی قلابہ عن رجل من بنی عامر یقال لہ انس بن مالک القشیری بدل مالک بن انس )