4778- عن ابن شهاب قال: "بلغنا أنه كان أنزل قرآن كثير فقتل علماؤه يوم اليمامة الذين كانوا قد وعوه ولم يعلم بعدهم ولم يكتب فلما جمع أبو بكر وعمر وعثمان القرآن ولم يوجد مع أحد بعدهم وذلك فيما بلغنا حملهم على أن تتبعوا القرآن، فجمعوه في الصحف في خلافة أبي بكر، خشية أن يقتل رجال من المسلمين في المواطن، معهم كثير من القرآن، فيذهبوا بما معهم من القرآن، فلا يوجد عند أحد بعدهم، فوفق الله عثمان فنسخ ذلك المصحف، فبعث بها إلى الأمصار وبثها في المسلمين". "ابن أبي داود".
4778: ۔۔ ابن شہاب (رح) سے مروی ہے فرماتے ہیں ہمیں خبر پہنچی ہے کہ قرآن بہت زیادہ نازل ہوا تھا۔ لیکن یمامہ کی جنگ میں بہت سے قرآن کو جاننے والے قتل ہوگئے۔ جنہوں نے اس کو حفظ کیا تھا وہ ان کے بعد معلوم ہوسکا اور نہ لکھا جاسکا۔ پس حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان (رض) اجمعین نے قرآن جمع کیا۔ ہمارے علم کے مطابق اسی چیز نے ان حضرات کو قرآن جمع کرنے پر مجبور کیا تھا۔ لہٰذا ان حضرات نے خلافت ابی بکر (رض) میں قرآن جمع کیا۔ ان کو یہ خوف دامن گیر تھا کہ کہیں دوسرے معرکوں میں بھی تمام قاری قرآن شہید نہ ہوجائیں جن کے پاس بہت سا قرآن ہے۔ اور یوں وہ اس قرآن کو اپنے ساتھ ہی لے جائیں اور ان کے بعد کوئی قرآن کو جاننے والا نہ بچے۔ پھر اللہ پاک نے حضرت عثمان (رض) کو توفیق مرحمت فرمائی کہ پہلے والے نسخے سے کئی نسخے تیار کرا کے اسلامی ملکوں میں بھیجے یوں (مکمل) قرآن پاک مسلمانوں میں پھیل گیا۔ رواہ ابن ابی داود) ۔
فائدہ : ۔۔ فرمان الہی ہے :
انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون۔
ہم نے اس کو نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ لہٰذا قرآن پاک کا کوئی حصہ لکھنے سے نہیں رہا۔ جن صحابہ کے پاس قرآن پاک تھا اور وہ شہید ہوگئے اس سے مراد ہے کہ ان کے پاس کسی چیز پر لکھے ہوئے سے نقل کریں۔ اور حضور نے ان کو وہ لکھوایا ہو جیسا کہ بعد کی روایت میں ہے کہ حضرت عثمان ہر ایک کو اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتے تھے کہ کیا واقعی تم کو یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لکھوایا ہے۔