4803- عن عمر قال: "سمعت هشام بن حكيم يقرأ سورة الفرقان في الصلاة على غير ما أقرأها وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم أقرأنيها فأخذت بثوبه فذهبت به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقلت يا رسول الله: إني سمعته يقرأ سورة الفرقان على غير ما أقرأتنيها، فقال: إقرأ فقرأ القراءة التي سمعتها منه فقال: "هكذا أنزلت" ثم قال لي إقرأ، فقرأت فقال: "هكذا أنزلت، إن القرآن أنزل على سبعة أحرف، فاقرؤوا ما تيسر منه". "ط وأبو عبيد في فضائل القرآن حم خ م د ت ن وأبو عوانة وابن جرير حب ق".
4803: ۔۔ حضرت عمر (رض) سے مروی ہے فرماتے ہیں : میں نے ہشام بن حکیم کو ان کے کپڑوں سے پکڑ کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں لایا۔ اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں نے ان کو سورة فرقان اس کے خلاف پڑھنے کا حکم دیا تو انھوں نے وہی قراءت پڑھی جو میں نے ان سے سنی تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی تصویب کرتے ہوئے فرمایا : ٹھیک یونہی نازل ہوا ہے۔۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے ارشاد فرمایا : تم پڑھو : میں نے اپنی قراءت کے مطابق (جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے پڑھایا تھا) پڑھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یونہی نازل ہوا ہے۔ پھر ارشاد فرمایا قرآن تو سات حروف (یعنی سات قراءتوں) پر نازل ہوا ہے۔ جو آسان لگے پڑھ لو۔ (ابو داؤد الطیالسی، ابو عبید فی فضائل القرآن، مسند احمد، بخاری، مسلم، ابو داود، ترمذی، نسائی، ابو عوانہ، ابن جریر، صحیح ابن حبان، السنن للبیہقی)