4813- عن كعب بن مالك قال سمع عمر رجلا يقرأ هذا الحرف {لَيَسْجُنُنَّهُ عتى حِينٍ} فقال له عمر "من أقرأك هذا؟ " قال: ابن مسعود فقال عمر: {لَيَسْجُنُنَّهُ حَتَّى حِينٍ} ثم كتب إلى ابن مسعود: "سلام عليك أما بعد: فإن الله تعالى أنزل القرآن، فجعله قرآنا عربيا مبينا، وأنزل بلغة هذا الحي من قريش، فإذا أتاك كتابي هذا فأقرئ الناس بلغة قريش، ولا تقرئهم بلغة هذيل". "ابن الأنباري في الوقف خط".
4813: ۔۔۔ کعب بن مالک سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے ایک شخص کو پڑھتے سنا : لیسجننہ عتی حین۔ حضرت عمر (رض) نے پوچھا : تجھے کس نے یوں پڑھایا ؟ اس نے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کا نام لیا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا :
لیسجننہ حتی حین۔ پڑھو۔ پھر آپ (رض) کو لکھا :
سلام علیک ! اما بعد !
اللہ تعالیٰ نے قرآن نازل فرمایا اور اس کو صاف عربی والا قرآن بنایا اور قریش کے قبیلے کی لغت پر نازل فرمایا۔ پس جب میرا یہ خطبہ تمہارے پاس آئے تو لوگوں کو قریش کی لغت پر قرآن پڑھاؤ۔ اور ہذیل کی لغت پر مت پڑھاؤ۔ ابن الانباری فی الوقت، التاریخ للخطیب۔