4820- عن أبي الصلت الثقفي أن عمر بن الخطاب قرأ هذه الآية {وَمَنْ يُرِدْ أَنْ يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقاً حَرَجاً} بنصب الراء وقرأها بعض من عنده من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم: حرجا بالخفض، فقال عمر: ائتوني رجلا من كنانة واجعلوه راعيا وليكن مدلجيا، فأتوا به فقال له عمر: "يا فتى ما الحرجة فيكم؟ " قال: "الحرجة فينا الشجرة، تكون بين الأشجار لا يصل إليها راعية ولا وحشية ولا شيء، فقال عمر
كذلك المنافق لا يصل إليه شيء من الخير". "عبد بن حميد وابن جرير وابن المنذر وأبو الشيخ".
4820: ۔۔۔ ابی صلت ثقفی سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے یہ آیت تلاوت فرمائی :
ومن یرد اللہ ان یضلہ یجعل صدرہ ضیقا حرجا۔ سورة
جبکہ بعض صحابہ نے آپ کے پاس جرحا میں راء کو مکسور پڑھا جبکہ حضرت عمر (رض) نے جرحا کو راء کو مفتوح پڑھا تھا۔ لہٰذا حضرت عمر (رض) نے فرمایا : کنانہ کے کسی شخص کو بلاؤ۔ وہ فیصلہ کرے گا اور ہاں وہ مدلجی ہونا چاہیے۔ لہٰذا ایک نوجوان کو لائے آپ (رض) نے اس سے پوچھا : تم الحرجۃ کس کو کہتے ہو ؟ جوان نے جواب دیا : ہم لوگ الحرجہ ایسے درخت کو کہتے ہیں جو دوسرے درختوں کے درمیان ہو، کوئی چرنے والا مویشی اس کے قریب جاتا ہے اور نہ کوئی وحشی جانور اور کوئی شے اس کے پاس نہیں جاتی۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : یہی حال منافق کا ہے اس کے پاس بھی خیر کی کوئی چیز نہیں پہنچتی۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابو الشیخ۔
فائدہ : ۔۔۔ جب جوان نے بھی الحرجہ راء کو مفتوح پڑھ کر اس کی تشریح کی تو حضرت عمر (رض) کے قول کی تائید ہوگئی کہ یہ آیت میں : صدرہ ضیفا حرجاً ہے نہ کہ حرجا۔