hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 4852

.

كنز العمال

4852
Kanz al-Ummal
4852- لقي رسول الله صلى الله عليه وسلم جبريل فقال يا جبريل: "إني بعثت إلى أمة أميين، منهم العجوز والشيخ الكبير والغلام والجارية والرجل الذي لم يقرأ كتابا قط، فقال يا محمد إن القرآن أنزل على سبعة أحرف". "ط ت وقال حسن صحيح قد روي عن أبي بن كعب من غير وجه وابن منيع والروياني ص".
4852: ۔۔ حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حضرت جبرائیل (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عرض کیا : اے جبرائیل (علیہ السلام) ! مجھے ان پڑھ قوم کی طرف بھیجا گیا ہے۔ جن میں بوڑھیاں، بڑے بوڑے، غلام، باندی اور ایسے ایسے لوگ ہیں جنہوں نے کبھی کوئی کتاب نہیں پڑھی ۔ جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا : اے محمد ! یہ قرآن سات حروف پر نازل کیا گیا ۔ (ابو داؤد الطیالسی، ترمذی، ابن منیع، الرویانی، السنن لسعید بن منصور)
فائدہ : ۔۔ امام ترمذی (رح) فرماتے ہیں۔ یہ روایت حسن صحیح ہے۔ اور حضرت ابی بن کعب (رض) سے کئی طریقوں سے منقول ہے۔
خلفاء راشدین اور ان سے قبل حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں امیین ان پڑھ مسلمانوں کی تعداد زیادہ رہی جس کی وجہ سے من جانب اللہ ان کے لیے مختلف ق راتوں پر قرآن پڑھنے کی اجازت دے دی گئی بعد میں جیسے جیسے تعلیم عام ہوگئی اللہ پاک نے تکوینی طور پر قرآن پڑھنا ایک ہی قراءت میں محصور کردیا۔ اگرچہ تشرعی طور پر اب بھی ہر حرف پر قرآن پڑھنا جائز ہے لیکن چونکہ اس میں امت کے اختلاف اور انتشار کا خدشہ تھا۔ اس لیے خلفاء راشدین ہی کے دور سے ایک قراءت میں قرآن پڑھنے کو زیادہ اختیار کیا گیا۔