4856- كان النبي صلى الله عليه وسلم عند أضاة بني غفار، فقال جبريل: "إن الله يأمرك أن تقرأ أمتك القرآن على حرف واحد" فقال: "أسأل الله معافاته ومغفرته، وإن أمتي لا تطيق ذلك، ثم أتاه الثانية،" فقال: "إن الله يأمرك أن تقرأ أمتك القرآن على حرفين، "فقال: "أسأل الله معافاته ومغفرته، وإن أمتي لا تطيق ذلك،" ثم جاء الثالثة، فقال: "إن الله يأمرك أن تقرأ أمتك القرآن على ثلاثة أحرف،" فقال: "أسأل الله معافاته ومغفرته وإن أمتي لا تطيق ذلك" ثم جاء الرابعة فقال: "إن الله يأمرك أن تقرأ أمتك القرآن سبعة أحرف، فأيما حرف قرؤوا عليه أصابوا". "ط م د قط في الأفراد".
4856:۔۔ (ابی بن کعب (رض) فرماتے ہیں) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنی غفار کے جوہڑ (تالاب) کے پاس تھے۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے (آ کر) فرمایا : اللہ پاک آپ کو حکم دیتا ہے کہ آپ کی امت ایک حرف پر قرآن پڑھے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اللہ سے عافیت اور مغفرت کا سوال کرتا ہوں۔ اور میری اس طابقت نہیں رکھتی۔ جبرائیل (علیہ السلام) دوبارہ تشریف لائے اور فرمایا : اللہ پاک آپ کو حکم دیتا ہے آپ کی امت دو حرفوں پر قرآن پڑھے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اللہ سے عافیت اور مغفرت کا سوال کرتا ہوں۔ اور میری اس طاقت نہیں رکھتی۔ جبرائیل (علیہ السلام) دوبارہ تشریف لائے اور فرمایا : اللہ پاک آپ کو حکم دیتا ہے آپ کی امت دو حرفوں پر قرآن پڑھے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اللہ سے عافیت اور مغفرت کا سوال کرتا ہوں، میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) سہ بارہ تشریف لائے اور فرمایا : اللہ پاک حکم دیتا ہے کہ آپ کی امت تین حرفوں پر قرآن پڑھے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اللہ سے عافیت اور مغفرت کا سوال کرتا ہوں۔ میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔ جبرائیل (علیہ السلام) چوتھی بار تشریف لائے اور فرمایا اللہ پاک آپ کو حکم فرماتا ہے کہ آپ کی امت سات حرفوں پر قرآن پڑھے جس حرف پر بھی پڑھیں گے درست ہوگا۔ (مسند ابی داؤد الطیالسی، مسلم، ابو داود، الداراقطنی فی الافراد)