hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 4860

.

كنز العمال

4860
Kanz al-Ummal
4860- عن أبي بن كعب قال: "بينا أنا يوما في المسجد إذ قرأت آية في سورة النحل كان رسول الله صلى الله عليه وسلم أقرأنيها فقرأها رجل إلى جانبي فخالف قراءتي، فقلت من أقرأك هذه القراءة؟ فقال: رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم قرأ آخر فخالف قراءتي وقراءته، فقلت من أقرأكما؟ قالا: رسول الله صلى الله عليه وسلم، قلت: لا أفارقكما حتى تأتيا رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأتيناه، فأخبرته الخبر، فقال: "إقرأ فقرأت، فقال أحسنت،" ثم قال للآخر: "إقرأ فقرأ، فقال أحسنت" ثم قال للآخر: "إقرأ فقرأ، فقال أحسنت" فدخلني شك يومئذ لم يدخلني مثله قط إلا في الجاهلية، فلما رأى ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم قال "لعل الشيطان دخلك؟ ثم دفع بكفه في صدري" فقال: "اللهم أخنس عنه الشيطان" ثم قال: "أتاني آت من ربي" فقال: "يا محمد اقرا القرآن على حرف" فقلت: "يا رب خفف عن أمتي"، ثم أتاني آت من ربي، فقال يا محمد: "اقرا القرآن على حرف"، فقلت "يا رب خفف عن أمتي"، ثم أتاني آت من ربي، فقال يا محمد "اقرا القرآن على حرفين،" فقلت "يا رب خفف عن أمتي"، ثم أتاني آت من ربي، فقال: "يا محمد اقرا القرآن على سبعة أحرف ولك بكل رد مسألة"، فقلت "يا رب اغفر لأمتي" ثم قلت "يا رب اغفر لأمتي، وأخرت الثالثة شفاعة إلى يوم القيامة، والذي نفسي بيده: إن إبراهيم ليرغب في شفاعتي". "كر" مر برقم "3090 و 3091 و 4855".
4860: ۔۔ ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے ایک مرتبہ میں مسجد میں تھا۔ میں نے سورة نحل کی ایک آیت پڑھی مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پڑھائی تھی۔ میرے برابر بیٹھے ہوئے ایک شخص نے وہی آیت دوسری طرح پڑھی۔ میں نے اس سے پوچھا : تم کو یہ قراءت کس نے پڑھائی ؟ اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام لیا۔ اتنے میں ایک تیسرے شخص نے وہی آیت ہم دونوں کے خلاف طریقے سے پڑھی۔ میں نے پھر دونوں سے پوچھا : تم دونوں کو یہ کس نے پڑھایا ؟ دونوں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام لیا۔ میں نے کہا : میں تم دونوں سے اس وقت تک جدا نہ ہوں گا جب تک تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں نہ چلو۔ چنانچہ ہم سب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوئے۔ میں نے آپ کو ساری خبر سنائی آپ نے مجھے پڑھنے کو کہا : میں نے پڑھا تو آپ نے درست قرار دیا۔ پھر دوسرے کو پڑھنے کو کہا اس کے پڑھنے پر بھی اس کو درست قرار دے دیا۔ پھر تیسرے کو پڑھنے کا کہا اس کے پڑھنے پر بھی اس کو درست قرار دیا۔ اس دن میرے دل میں جاہلیت کی طرح کا شک سا پیدا ہوا۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اس حال میں دیکھا تو فرمایا : شاید تیرے اندر شیطان آگیا ہے۔ پھر آپ نے اپنی ہتھیلی میرے سینے پر مار کر شیطان کو دفع کیا اور دعا کی : اے اللہ اس سے شیطان کو نکال دے۔ پھر آپ نے مجھے فرمایا : رب کی طرف سے ایک آنے والا (فرشتہ) میرے پاس آیا۔ اور بولا : اے محمد ! ایک حرف پر قرآن پڑھو۔ میں نے دعا کی : اے پروردگار ! میری امت پر تخفیف فرما دے۔ پھر دوبارہ میرے پاس فرشتہ آیا اور کہا : اے محمد دو حرفوں پر قرآن پڑھو۔ میں نے دعا کی : اے پروردگار ! میری امت پر تخفیف فرما۔ میرے پاس فرشتہ پھر آیا اور کہا : اے محمد ! سات حرفوں پر قرآن پڑھو۔ اور آپ کے لیے ہر مرتبہ دعا کرنے پر ایک سوال پورا کیا جاتا ہے۔ میں نے دعا کی : اے پروردگار ! میری امت کی مغفرت فرما۔ اور تیسری دعا میں نے قیامت میں شفاعت کرنے کے لیے موخر کردی۔ قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ابراہیم (علیہ السلام) بھی میری شفاعت کے لیے رغبت کریں گے (رواہ ابن عساکر)
3090، 3091 اور 4855 پر روایت گذر چکی ہے۔