4891- عن عمر أنه سمع رجلا يتعوذ من الفتنة، فقال عمر: "اللهم إني أعوذ بك من ألفاظه، أتسأل ربك أن لا يرزقك أهلا ومالا؟ أو قال: أهلا وولدا؟ وفي لفظ: أتحب أن لا يرزقك الله مالا وولدا؟ أيكم استعاذ من الفتنة فليستعذ من مضلاتها". "ش وأبو عبيد".
4891:۔ حضرت عمر (رض) سے مروی ہے آپ نے ایک شخص کو فتنہ سے پناہ مانگتے ہوئے سنا حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اے اللہ میں اس کے الفاط سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ پھر اس شخص کو فرمایا : کیا تو اپنے رب سے یہ سوال کر را ہے کہ وہ اہل و عیال اور مال و دولت نہ عطا کرے یا فرمایا : اہل اولاد نہ دے۔ اور ایک روایت کے الفاظ ہیں : کیا تو پسند کرتا ہے کہ اللہ تجھے مال اور اولاد نہ دے۔ پس جو بھی فتنہ سے پناہ مانگنا چاہیے وہ فتنے کی گمراہیوں سے پناہ مانگے۔ ابن ابی شیبہ، ابو عبید۔
فائدہ : ۔۔۔ اللہ پاک نے قرآن پاک میں مال و اولاد کو فتنہ ارشاد فرمایا ہے یعنی یہ آزمائش ہیں۔ لہٰذا فتنہ سے پناہ مانگنا مال و اولاد سے پناہ مانگنا ہے۔ لہٰذا یہ دعا کرے کہ اے اللہ ! میں گمراہ کرنے والے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
اللھم انی اعوذبک من الفتنۃ المضللۃ۔