hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 4898

.

كنز العمال

4898
Kanz al-Ummal
4898- "أبي بن كعب" كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا دعا لأحد بدأ بنفسه، فذكر ذات يوم موسى، فقال: "رحمة الله علينا وعلى موسى لو صبر لرأى من صاحبه العجب العاجب، ولكنه قال: {إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلا تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْراً} وطولها". "ش حم د ن وابن قانع وابن مردويه".
4898: ۔۔ (ابی بن کعب (رض)) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی کے لیے دعا فرماتے تو اپنی ذات سے ابتداء فرماتے تھے۔ ایک دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ذکر فرمایا : اللہ کی رحمت ہو ہم پر اور موسیٰ (علیہ السلام) پر، اگر وہ صبر کرتے تو اپنے ساتھی سے بڑی تعجب خیز چیزیں دیکھتے لیکن انھوں نے یہ کہا :
ان سالتک عن شیء بعدھا فلا تصاحبنی قد بلغت من لدنی عذرا۔ الکھف : 76 ۔
اس کے بعد اگر میں (پھر) کوئی بات پوچھوں (یعنی اعتراض کروں) تو مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیے گا کہ آپ میری طرف سے عذر (کے قبول کرنے میں غایت کو پہنچ گئے)
یوں خود ہی انھوں نے اپنے ساتھی کو ڈھیل دے دی۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، مسند احمد، ابو داود، نسائی، ابن منیع، ابن قانع، ابن مردویہ)
فائدہ : ۔۔ 4886: روایت میں خصوصیت کی بجائے عمومیت کا حکم دیا گیا یعنی سب کے لیے دعا کرو اسی طرح روایت 4879 میں بھی عام دعا کرنے کا حکم دیا۔ جبکہ اس روایت میں اور آنے والی چند روایات میں اس بات کی تعلیم ہے کہ پہلے اپنے لیے دعا کرے پھر اس دعا میں سب کو شامل کرلے : جیسے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اللہ ہم پر رحم فرما۔
اللہم افتح لنا ابواب الدعاء واجابتہا۔