49 – "أن تشهد أن لا إله إلا الله وحده لاشريك له وأن محمدا عبده ورسوله وأن يكون الله ورسوله أحب إليك مما سواهما وأن تحترق في النار أحب إليك من أن تشرك بالله وأن تحب ذا نسب لا تحبه إلا لله فإذا كنت كذلك فقد دخل حب الإيمان في قلبك كما دخل حب الماء للظمآن في اليوم القائظ" (حم عن أبي رزين العقيلي) أنه قال يا رسول الله ما الإيمان؟ قال فذكره وحسن.
٤٩۔۔ تم شہادت دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، اور محمداللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور تمہارے نزدیک اللہ اور اس کا رسول ان کے ماسوا ہر ایک سے زیادہ محبوب ہوں اور یہ کہ تمہیں آگ میں جل جانا ہے اس سے کہیں زیادہ محبوب ہو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراؤ اور کسی سے بھی خواہ وہ صاحب قرابت ہو اللہ ہی کے لیے محبت کرو۔ پس جب تم اس حال کو پہنچ جاؤ گے تویقینا ایمان تمہارے دل میں یوں داخل ہوجائے گا جس طرح کہ تپتے دن میں پیاسے کو پانی سے محبت ہوجاتی ہے۔ مسنداحمد بروایت ابورزین العقیلی۔ اس روایت کا پس منظر یہ ہے کہ حدیث کے راوی صحابی نے حضور اکرم سے دریافت فرمایا تھا کہ ایمان کیا چیز ہے ؟ تب حضور نے مذکورہ بالاجواب مرحمت فرمایا تھا اور کیا ہی خوب فرمایا تھا۔