4931- عن ثابت بن الحجاج قال: قام أبو بكر بعد وفاة رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: "لقد علمتم ما قام فيكم رسول الله صلى الله عليه وسلم عام أول، "فاسئلوا الله العافية، فإنه لم يعط عبد شيئا أفضل من المعافاة إلا اليقين، وأنا أسأل الله اليقين والعافية". "ع" وهو منقطع، قال ابن كثير: لهذا الحديث طرق متصلة ومنقطعة تفيد القطع بصحته
4931: ۔۔ ثابت بن الحجاج سے روی ہے حضرت ابوبکر (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد کھڑے ہوئے اور فرمایا : تم لوگ جانتے ہو کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہلے سال تمہارے درمیان کھڑے ہوئے تھے اور یہ فرمایا تھا : اللہ سے عافیت کا سوال کرو۔ بیشک کسی بندے کو یقین کے سوا عافیت سے بڑھ کر کوئی شی نہیں دی گئی۔ اور میں بھی اللہ سے یقین اور عافیت کا سوال کرتا ہوں۔ مسند ابی یعلی۔
کلام : ۔۔ یہ روایت بھی منقطع الاسناد ہے۔ لیکن امام ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں : اس حدیث کے متصل اور منقطع بہت سے طریق ہیں جس کی وجہ سے حدیث صحت کے درجہ کو پہنچ جاتی ہے۔ بحوالہ کنز العمال۔ ج 2 ص 627 ۔