hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 4957

.

كنز العمال

4957
Kanz al-Ummal
4957- "عبد الله بن عمر" سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في دعائه حين يمسي وحين يصبح لم يدعه حتى فارق الدنيا، أو حتى مات: "اللهم إني أسألك العافية في الدنيا والآخرة، اللهم إني أسألك العفو والعافية في ديني ودنياي وأهلي ومالي، اللهم استر عوراتي وآمن روعاتي، اللهم احفظني من بين يدي ومن خلفي، وعن يميني وعن شمالي، ومن فوقي، وأعوذ بعظمتك ان أغتال من تحتي"، قال جبير بن سليمان: وهو الخسف ولا أدري قول النبي صلى الله عليه وسلم أو قول جبير؟ " "ش".
4957: ۔۔ (عبداللہ بن عمر (رض)) ابن عمر (رض) فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنی صبح و شام کی دعا میں ہمیشہ یہ کلمات پڑھتے دیکھا جن کو آپ نے کبھی نہیں چھوڑا۔ حتی کہ آپ کی وفات ہوگئی۔ ج 2 ص 636، حدیث نمبر 4957 ۔
اے اللہ میں تجھ سے دنیا و آخرت میں عافیت کا سوال کرتا ہوں۔ اے اللہ میں تجھ سے اپنے دین، اپنی دنیا، اپنے اہل میں اور اپنے مال میں معافی اور عافیت کا سوال کرتا ہوں۔
اے اللہ ! میر برائیوں کی پردہ پوشی فرما، میرے خوف کو امن عطا فرما، اے اللہ میرے آگے سے، میرے پیچھے سے، میرے دائیں سے، میرے بائیں سے، اور میرے اوپر سے حفاظت فرما۔
اے پروردگار ! میں تیری عظمت کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ نیچے سے اچک لیا جاؤں۔ مصنف ابن ابی شیبہ۔
فائدہ : ۔۔ جبیر بن سلیمان فرماتے ہیں : نیچے سے اچک لیا جاؤں اس سے مراد خسف ہے یعنی دھنس جانا زلزلہ کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے۔ مصنف ابن ابی شیبہ فرماتے ہیں معلوم نہیں یہ جبیر کا اپنا قول ہے یا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان نقل کیا ہے۔ مصنف ابن ابی شیبہ۔