4961- "من مسند الصديق رضي الله عنه" عن أبي بكر الصديق رضي الله عنه قال قال رسول الله
صلى الله عليه وسلم: "من قال في دبر الصلاة بعدما يسلم هؤلاء الكلمات كتبه ملك في رق فختم بخاتم، ثم رفعها إلى يوم القيامة، فإذا بعث الله العبد من قبره جاءه الملك ومعه الكتاب ينادي أين أهل العهود حتى تدفع إليهم؟ والكلمات أن يقول: اللهم فاطر السموات والأرض، عالم الغيب والشهادة الرحمن الرحيم، إني أعهد إليك في هذه الحياة الدنيا: بأنك أنت الله لا إله إلا أنت وحدك لا شريك لك وأن محمدا عبدك ورسولك، فلا تكلني إلى نفسي، فإنك إن تكلني إلى نفسي تقربني من السوء، وتباعدني من الخير، وإني لا أثق إلا برحمتك فاجعل رحمتك لي عهدا عندك تؤديه إلي يوم القيامة، إنك لا تخلف الميعاد"، وعن طاووس أنه أمر بهذه الكلمات فكتبت في كفنه". "الحكيم".
4961: ۔۔ (مسند صدیق (رض)) حضرت ابوبکر (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو شخص (فرض) نماز کے سلام پھیرنے کے بعد یہ کلمات کہے فرشتہ ان کو ایک ورق میں لکھ کر مہر لگا دیتا ہے پھر قیامت کے دن وہ ان کو پیش کرے گا۔ جب اللہ پاک بندہ قبر سے اٹھائیں گے تو وہ فرشتہ یہ کاغذ لے کر اس کے پاس آئے گا اور پوچھے گا : کہاں ہیں عہد و پیمان والے تاکہ ان کو ان کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے کیے جائیں ؟ وہ کلمات یہ ہیں :
اللهم فاطر السموات والارض ، عالم الغيب والشهادة الرحمن الرحيم ، إنى أعهد اليك في هذه الحياة الدنيا : بأنك أنت اللہ لا إله الا أنت وحدک لا شريك لک وان محمدا عبدک ورسولک ، فلا تکلني إلى نفسي ، فانک ان تکلني إلى نفسي تقربنی من السوء ، وتباعدني من الخير ، وإنى لا أثق الا برحمتک فاجعل رحمتک لی عهدا عندک تؤديه إلى يوم القيامة ، انک لا تخلف الميعاد۔
اے اللہ ! آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے ! غیب اور حاضر کو جاننے والے ! نہایت مہربان رحم کرنے والے ! میں اس دنیاوی زندگی میں تجھے عہد دیتا ہوں کہ (میں تہ دل سے اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ) تو ہی معبود برحق ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو تنہا ہے، تیرا کوئی ثانی نہیں اور محمد تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں۔ پس مجھے میرے نفس کے سپرد نہ کر۔ کیونکہ اگر تو نے مجھے نفس کے سپرد کردیا تو تحقیق تو نے مجھے برائی کے بالکل قریب کردیا اور خیر سے کوسوں دور کردیا اور مجھے تو تیری رحمت ہی پر بھروسہ ہے، پس تو میرے ساتھ اپنی رحمت کا وعدہ کرلے اور اس کو قیامت کے دن پورا فرما دیجیے گا۔ بیشک تو اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا۔ (الحکیم)
حضرت طاؤس (رح) کے متعلق منقول ہے کہ انھوں نے ان کلمات کو اپنے کفن میں لکھنے کا حکم دیا تھا۔