4979- عن أبي هريرة قال قال أبو الدرداء، وفي لفظ أبو ذر يا رسول الله: "ذهب أصحاب الدثور، يصلون كما نصلي، ويصومون كما نصوم، ولهم فضول أموال يتصدقون بها، وليس لنا ما نتصدق به، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ألا أعلمك كلمات إذا قلتهن أدركت من سبقك ولم يلحقك أحد من بعدك، إلا من عمل بمثل عملك؟ قلت بلى يا رسول الله: تكبر الله دبر كل صلاة ثلاثا وثلاثين، وتحمده ثلاثا وثلاثين، وتسبحه ثلاثا وثلاثين، وتختمها بلا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك، وله الحمد، وله الشكر، وهو على كل شيء قدير". "كر"1. رواه النسائي برقم [1354]
4979: ۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ حضرت ابو الدرداء (رض) یا حضرت ابو ذر (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ : مالدار لوگ تو نکل گئے وہ ہماری طرح نماز پڑھتے ہیں روزے رکھتے ہیں مزید اس پر یہ شرف کہ اپنے زائد اموال کو صدقہ کرتے ہیں لیکن ہمارے پاس صدقہ کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو فرمایا : میں تم کو ایسے کلمات بتاتا ہوں جب تم ان کو کہوگے تو آگے نکل جانے والوں کو پا لوگے اور پیچھے والے تم کو نہ پاسکیں گے سوائے اس شخص کے جو تم جیسا عمل کرے اس صحابی نے عرض کیا ضرور بتائیے۔ یا رسول اللہ ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم ہر (فرض) نماز کے بعد تینتیس بار اللہ اکبر کہو، تینتیس بار الحمد للہ کہو اور تینتیس بار سبحان اللہ کہو اور ایک مرتبہ یہ کلمات پڑھ کر اس کو مکمل کرو۔
لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد ولہ الشکر۔ وھو علی کل شئی قدیر۔ (ابن عساکر، نسائی برقم 1354)