4984- "مرسل قتادة" عن قتادة قال: "قال ناس من فقراء المؤمنين يا رسول الله: ذهب أهل الدثور بالأجور، يتصدقون ولا نتصدق وينفقون ولا ننفق، قال: أرأيتم لو أن مال الدنيا وضع بعضه على بعض أكان بالغا السماء؟ قالوا: لا يا رسول الله، قال: أفلا أخبركم بشيء أصله في الأرض، وفرعه في السماء؟ أن تقولوا في دبر كل صلاة: لا إله إلا الله، والله أكبر، وسبحان الله، والحمد لله عشر مرات، فإن أصلهن في الأرض، وفرعهن في السماء"."عب" ابن زنجويه.
4984: ۔۔۔ (مرسل قتادہ (رح)) حضرت قتادہ (رح) فرماتے ہیں کچھ فقراء صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! مال والے اجر لے گئے وہ صدقہ کرتے ہیں ہم صدقہ خیرات نہیں کرسکتے۔ وہ خرچ کرتے ہیں اور ہر پر خرچ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت فرمایا بتاؤ اگر مال والوں کے تمام اموال ایک دوسرے کے اوپر رکھ دیے جائیں کیا وہ اموال آسمان تک پہنچ جائیں گے ؟ فقراء نے عرض کیا : نہیں یا رسول اللہ ! تب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تو کیا میں تم کو ایسی شئی نہ بتاؤں جس کی جڑ زمین میں ہو اور اس کی شاخ آسمان میں تم ہر فرض نماز کے بعد یہ کلمات دس دس بار پڑھا کرو۔ لا الہ الا اللہ، واللہ اکبر، سبحان اللہ، الحمد للہ۔ بیشک ان کی جڑ زمین اور شاخین آسمان میں ہیں۔ (عبدالرزاق، ابن زنجویہ)