4989- "من مسند عمر رضي الله عنه" عن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم بعث بعثا قبل نجد فغنموا غنائم كثيرة، وأسرعوا الرجعة، فقال رجل ممن لم يخرج: ما رأينا بعثا أسرع رجعة ولا أفضل غنيمة من هذا البعث فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "ألا أدلكم على قوم أفضل غنيمة وأسرع رجعة؟ قوم شهدوا صلاة الصبح ثم جلسوا في مجالسهم يذكرون الله حتى طلعت الشمس، فأولئك أسرع رجعة، وأفضل غنيمة وفي لفظ: أقوام يصلون الصبح، ثم يجلسون في مجالسهم يذكرون الله حتى تطلع الشمس، ثم يصلون بركعتين، ثم يرجعون إلى أهاليهم فهؤلاء أعجل كرة، وأعظم غنيمة منهم". "ابن زنجويه ت" وقال غريب لا نعرفه إلا من هذا الوجه وفيه حماد بن أبي حميد ضعيف1.
4989: ۔۔ (مسند عمر (رض)) حضرت عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نجد کی طرف ایک لشکر بھیجا۔ جس کو بہت سا مال غنیمت ہاتھ آیا اور پھر انھوں نے لوٹنے میں سرعت کا مظاہرہ کیا۔ ایک شخص جو لشکر میں جانے سے رہ گیا تھا بولا : ہم نے ایسا کوئی لشکر نہیں دیکھا جو اس قدر جلد واپس آیا اور بےانتہا مال غنیمت بھی ساتھ لایا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کیا میں تم کو اسی قوم نہ بتاؤں جو اس سے زیادہ مال لے کر اس سے زیادہ جلد واپس آنے والی ہے ؟ یہ وہ لوگ ہیں جو صبح کی نماز میں حاضر ہوتے ہیں پھر اپنی جگہ بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتے رہتے ہیں حتی کہ سورج طلوع ہوجاتا ہے۔ پس یہ لوگ زیادہ جلد لوٹ کر آتے ہیں اور افضل غیمت ساتھ لاتے ہیں۔
روایت کے دوسرے الفاظ یہ ہیں ، فرمایا : وہ لوگ صبح کی نماز پڑھ کر اپنی جگہ بیٹھے ہوئے اللہ کا ذکر کرتے رہتے ہیں حتی کہ سورج طلوع ہوجاتا ہے پھر دو رکعات نماز (نفل) ادا کرتے ہیں پھر اپنے گھروں کو لوٹ آتے ہیں یہ لوگ ان سے جلد واپس آنے والے اور ان سے زیادہ مال غنیمت لانے والے ہیں۔ (ابن زنجویہ، ترمذی)
کلام : ۔۔۔ امام ترمذی (رح) فرماتے ہیں۔ یہ روایت غریب (ضعیف) ہے اور ہم کو صرف اسی طریق سے ملی ہے اور اس میں ایک راوی حماد بن ابی حمید ضعیف ہے۔ تحفۃ الاحوذی 10/ 7 بحوالہ کنز العمال ج 2 ص 652)