5005- عن أبي رافع: أن عبد الله بن جعفر زوج ابنته من الحجاج بن يوسف، فقال لها إذا دخل بك فقولي: "لا إله إلا الله الحليم الكريم، سبحان الله رب العرش العظيم، والحمد لله رب العالمين وزعم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا حزبه أمر، قال هذا، قال فلم يصل إليها". "كر".
5005: ۔۔ ابو رافع (رح) سے مروی ہے کہ عبداللہ بن جعفر نے اپنی بیٹی کی شادی حجاج بن یوسف سے کردی اور اس کو نصیحت فرمائی : جب وہ تیرے پاس آئے تو یہ کلمات پڑھ لینا :
لا الہ الا اللہ الحلیم الکریم سبحان اللہ رب العرش العظیم، والحمد للہ رب العالمین۔
عبداللہ بن جعفر کا کہنا تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی جب کوئی پریشانی والی بات آجاتی تو یہی کلمات پڑھتے تھے۔
ابو رافع کہتے ہیں : لہٰذا حجاج اس تک نہیں پہنچ سکا۔ رواہ ابن عساکر۔
فائدہ : ۔۔ حجاج اموی خلافت کا ایک ظالم گورنر تھا۔ جس نے ظلم و زبردستی سے عبداللہ بن جعفر کی بیٹی سے شادی کی لہٰذا لڑکی کو ان کے والد نے یہ مذکورہ دعا سکھائی جس کی بدولت وہ ظالم اپنی مراد نہ پاسکا۔